جامع الترمذي حدیث نمبر: 435
Jami at-Tirmidhi 435
کتاب #3: کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيَّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ عِشْرِينَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَضَعَّفَهُ جِدًّا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی ، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” جس نے مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھیں اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا “ ، ¤ ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف زيد بن حباب عن عمر بن أبي خثعم کی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم منکرالحدیث ہیں ۔ اور انہوں نے انہیں سخت ضعیف کہا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 435]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا، ابن ماجة (1167) // ضعيف سنن ابن ماجة (244)، الضعيفة (469)، الروض النضير (719)، التعليق الرغيب (1 / 204)، ضعيف الجامع الصغير (5661) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(435) إسناده ضعيف جدًا /جه 1167، 1374 ¤ عمر بن أبى خثعم ضعيف (تق:4928) منكر الحديث، كما قال البخاري وغيره وحديث: ”من صلى بعد المغرب عشرين ركعة“ موضوع أخرجه ابن ماجه (1373)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الإقامة 113 (1167) (تحفة الأشراف: 15412) (ضعیف جداً) (سند میں عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم نہایت ضعیف راوی ہے)