جامع الترمذي حدیث نمبر: 395
Jami at-Tirmidhi 395
کتاب #3: کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
178: باب مَا جَاءَ فِي التَّشَهُّدِ فِي سَجْدَتَىِ السَّهْوِ
باب: سجدہ سہو میں تشہد پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ وَهُوَ عَمُّ أَبِي قِلَابَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَى مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ , وَأَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍوَ، وَيُقَالُ أَيْضًا: مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍوَ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ , وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِطُولِهِ، وَهُوَ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ " وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّشَهُّدِ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَتَشَهَّدُ فِيهِمَا وَيُسَلِّمُ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ فِيهِمَا تَشَهُّدٌ وَتَسْلِيمٌ وَإِذَا سَجَدَهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق، قَالَا: إِذَا سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی آپ سے سہو ہو گیا ، تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا ، پھر سلام پھیرا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- عبد الوھاب ثقفی ، ھشیم اور ان کے علاوہ کئی اور لوگوں نے بطریق : «خالد الحذاء عن أبي قلابة» یہ حدیث ذرا لمبے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے ، اور وہ یہی عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر میں صرف تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی اٹھا جسے «خرباق» کہا جاتا تھا ( اور اس نے پوچھا : کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے ، یا آپ بھول گئے ہیں ) ¤ ۳- سجدہ سہو کے تشہد کے سلسلہ میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے گا اور سلام پھیرے گا ۔ اور بعض کہتے کہ سجدہ سہو میں تشہد اور سلام نہیں ہے اور جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے ، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے ( اختلاف تو سلام کے بعد میں ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 395]
قال الشيخ الألباني:
شاذ بذكر التشهد، الإرواء (403)، ضعيف أبي داود (193) // هذا رقم الشيخ ناصر الخاص به وعندنا برقم (227 / 1039) //، المشكاة (1019)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الصلاة 202 (1039)، سنن النسائی/السہو 23 (1237)، (تحفة الأشراف: 10885) (شاذ) (حدیث میں تشہد کا تذکرہ شاذ ہے)