جامع الترمذي حدیث نمبر: 397
Jami at-Tirmidhi 397
کتاب #3: کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
179: باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي فَيَشُكُّ فِي الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ
باب: آدمی کو نماز پڑھتے وقت کمی یا زیادتی میں شک و شبہ ہو جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَلْبِسُ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ "قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کے پاس شیطان اس کی نماز میں آتا ہے اور اسے شبہ میں ڈال دیتا ہے ، یہاں تک آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں ؟ چنانچہ تم میں سے کسی کو اگر اس قسم کا شبہ محسوس ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 397]
💡 وضاحت:
۱؎: یقینی بات پر بنا کرنے کے بعد۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (943 - 345)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 4 (608)، والعمل في الصلاة 18 (1222)، والسہو 6 (1231)، وبدء الخلق 11 (3285)، صحیح مسلم/الصلاة 8 (39)، والمساجد 19 (570)، سنن ابی داود/ الصلاة 198 (1030)، سنن النسائی/الأذان 30 (671)، والسہو 25 (1253)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 135 (1216)، (تحفة الأشراف: 15239)، مسند احمد (2/313، 358، 411، 460، 503، 522، 531) (صحیح)