📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: تفسیر قرآن کریم (كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: سورۃ «تبت یدا» سے بعض آیات کی تفسیر۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 3363 Jami at-Tirmidhi 3363
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
91: باب وَمِنْ سُورَةِ تَبَّتْ يَدَا
باب: سورۃ «تبت یدا» سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الصَّفَا فَنَادَى: " يَا صَبَاحَاهُ "، فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ قُرَيْشٌ، فَقَالَ: " إِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنِّي أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ مُمَسِّيكُمْ، أَوْ مُصَبِّحُكُمْ، أَكُنْتُمْ تُصَدِّقُونِي؟ " فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا تَبًّا لَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا ( پہاڑ ) پر چڑھ گئے ، وہاں سے یا «صباحاه» ۱؎ آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہو گئے ۔ آپ نے فرمایا : ” میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا ( بنا کر بھیجا گیا ) ہوں ، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ( پہاڑ کے پیچھے سے ) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے ؟ ابولہب نے کہا کیا : تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا ؟ تمہارا ستیاناس ہو ۲؎ ، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «تبت يدا أبي لهب وتب» ” ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا “ ( تبت : ۱ ) ، نازل فرمائی ، © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3363]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ آواز عرب اس وقت لگایا کرتے تھے جب قبیلہ حملہ والوں کو کسی خاص اور اہم معاملہ کے لیے جمع کرنا ہوتا تھا۔
۲؎: دیگر روایات میں آتا ہے کہ لوگوں کے جمع ہو جانے پر پہلے آپ نے ان سے تصدیق چاہی کہ اگر میں ایسا کہوں تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے، نہیں؟ اس پر انہوں نے کہا، کیوں نہیں کریں گے، آپ ہمارے درمیان امین اور صادق مسلم ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی دعوت پیش کی اس دلیل سے کہ تب میری اس بات پر بھی تصدیق کرو اس پر ابولہب نے مذکورہ بات کہی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 98 (1394)، والمناقب 13 (3525)، وتفیسر الشعراء 2 (4770)، وتفسیر سبا 2 (4801)، وتفسیر تبت یدا أبي لہب 1 (4971)، و2 (4972)، و3 (4973)، وصحیح مسلم/الإیمان 89 (208) (تحفة الأشراف: 5594) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #3363
3361 3362 3363 3364 3365
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ