جامع الترمذي حدیث نمبر: 3243
Jami at-Tirmidhi 3243
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْمَرَ أَنْ يَنْفُخَ فَيَنْفُخَ "، قَالَ الْمُسْلِمُونَ: فَكَيْفَ نَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، تَوَكَّلْنَا عَلَى اللَّهِ رَبِّنَا، "، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: " عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الْأَعْمَشُ أَيْضًا عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اپنا رخ اسی کی طرف کئے ہوئے ہے ، اسی کی طرف کان لگائے ہوئے ہے ، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے ، مسلمانوں نے کہا : ہم ( ایسے موقعوں پر ) کیا کہیں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” کہو : «حسبنا الله ونعم الوكيل توكلنا على الله ربنا وربما» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے ، ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے “ راوی کہتے ہیں : کبھی کبھی سفیان نے «توكلنا على الله ربنا» کے بجائے «على الله توكلنا» روایت کیا ہے ۔ ( اس کے معنی بھی وہی ہیں ) ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اعمش نے بھی اسے عطیہ سے اور عطیہ نے ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3243]
💡 وضاحت:
۱؎: مولف نے یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ: «ونفخ في الصور فصعق من في السماوات ومن في الأرض» (الزمر: 68) کی تفسیر میں ذکر کی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1078 - 1079)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3243) إسناده ضعيف / تقدم طرفه:2431 ¤ عطية ضعيف (تقدم:477) وللحديث شواھد كثيرة ضعيفة كلھا
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4244) (صحیح) (سند میں عطیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)