جامع الترمذي حدیث نمبر: 3142
Jami at-Tirmidhi 3142
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ: صِنْفًا مُشَاةً، وَصِنْفًا رُكْبَانًا، وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ قَالَ: " إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى وُهَيْبٌ، عَنِ ابْن طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن لوگ تین طرح سے جمع کئے جائیں گے ، ایک گروہ چل کر آئے گا ، اور ایک گروہ سوار ہو کر آئے گا اور ایک گروہ اپنے منہ کے بل آئے گا “ ۔ پوچھا گیا : اللہ کے رسول ! وہ لوگ اپنے منہ کے بل کیسے چلیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” جس نے انہیں قدموں سے چلایا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ وہ انہیں ان کے منہ کے بل چلا دے ، سنو ( یہی نہیں ہو گا کہ وہ چلیں گے بلکہ ) وہ منہ ہی سے ہر بلندی ( نشیب و فراز ) اور کانٹے سے بچ کر چلیں گے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- وہیب نے ابن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے باپ طاؤس سے اور طاؤس نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3142]
💡 وضاحت:
۱؎: مؤلف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «ونحشرهم يوم القيامة على وجوههم» (الإسراء: ۹۷)۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (5546 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيب (4 / 194) // ضعيف الجامع الصغير (6417) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3142) إسناده ضعيف ¤ علي بن زيد: ضعيف (تقدم:589) وشيخه أوس بن خالد: مجھول (تق: 574) ولأصل الحديث شواھد، انظر صحيح البخاري (2522) ومسلم (2861)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12203) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں)