جامع الترمذي حدیث نمبر: 3141
Jami at-Tirmidhi 3141
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
18: باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ
باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ سَأَلْتُمُوهُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَسْأَلُوهُ فَإِنَّهُ يُسْمِعُكُمْ مَا تَكْرَهُونَ، فَقَالُوا لَهُ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، حَدِّثْنَا عَنِ الرُّوحِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً وَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، حَتَّى صَعِدَ الْوَحْيُ، ثُمَّ قَالَ: " الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا ۔ آپ ( کبھی کبھی ) کھجور کی ایک ٹہنی کا سہارا لے لیا کرتے تھے ، پھر آپ کچھ یہودیوں کے پاس سے گزرے تو ان میں سے بعض نے ( چہ میگوئی کی ) کہا : کاش ان سے کچھ پوچھتے ، بعض نے کہا : ان سے کچھ نہ پوچھو ، کیونکہ وہ تمہیں ایسا جواب دیں گے جو تمہیں پسند نہ آئے گا ( مگر وہ نہ مانے ) کہا : ابوالقاسم ! ہمیں روح کے بارے میں بتائیے ، ( یہ سوال سن کر ) آپ کچھ دیر ( خاموش ) کھڑے رہے ، پھر آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا ، تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی آنے والی ہے ، چنانچہ وحی آ ہی گئی ، پھر آپ نے فرمایا : «الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» ” روح میرے رب کے حکم سے ہے ، تمہیں بہت تھوڑا علم حاصل ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3141]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 47 (125)، وتفسیر الإسراء 12 (4721)، والإعتصام 4 (7297)، والتوحید 28 (7456)، و 29 (7462)، صحیح مسلم/المنافقین 4 (2794) (تحفة الأشراف: 9419) (صحیح)