جامع الترمذي حدیث نمبر: 3134
Jami at-Tirmidhi 3134
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
18: باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ
باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ سورة الإسراء آية 60، قَالَ: " هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ : «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» ” اور نہیں کیا ہم نے وہ مشاہدہ کہ جسے ہم نے تمہیں کروایا ہے ( یعنی إسراء و معراج کے موقع پر جو کچھ دکھلایا ہے ) مگر لوگوں کی آزمائش کے لیے “ ( بنی اسرائیل : ۶۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں : اس سے مراد ( کھلی ) آنکھوں سے دیکھنا تھا ، جس دن آپ کو بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تھی ۱؎ انہوں نے یہ بھی کہا «والشجرة الملعونة في القرآن» میں شجرہ «ملعونہ» سے مراد تھوہڑ کا درخت ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3134]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی خواب میں سیر نہیں، بلکہ حقیقی و جسمانی معراج تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 42 (3888)، وتفسیر الإسراء (4716)، والقدر 10 (6613) (تحفة الأشراف: 6167) (صحیح)