جامع الترمذي حدیث نمبر: 3138
Jami at-Tirmidhi 3138
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
18: باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ
باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْعَنُهَا بِمِخْصَرَةٍ فِي يَدِهِ وَرُبَّمَا قَالَ بِعُودٍ وَيَقُولُ: " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا سورة الإسراء آية 81 جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ سورة سبأ آية 49 "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس سال مکہ فتح ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے ، آپ اپنے ہاتھ میں لی ہوئی چھڑی سے انہیں کچوکے لگانے لگے ( عبداللہ نے کبھی ایسا کہا ) اور کبھی کہا کہ آپ اپنے ہاتھ میں ایک لکڑی لیے ہوئے تھے ، اور انہیں ہاتھ لگاتے ہوئے کہتے جاتے تھے «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا» ” حق آ گیا باطل مٹ گیا باطل کو مٹنا اور ختم ہونا ہی تھا “ ( بنی اسرائیل : ۸۱ ) ، «جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد» ” حق غالب آ گیا ہے ، اب باطل نہ ابھر سکے گا اور نہ ہی لوٹ کر آئے گا “ ( سبا : ۴۹ ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اور اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3138]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المظالم 32 (2478)، والمغازي 49 (4287)، وتفسیر الإسراء 11 (4720)، صحیح مسلم/الجھاد 32 (1781) (تحفة الأشراف: 9334) (صحیح)