📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: تفسیر قرآن کریم (كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: سورۃ الرعد سے بعض آیات کی تفسیر۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 3117 Jami at-Tirmidhi 3117
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
14: باب وَمِنْ سُورَةِ الرَّعْدِ
باب: سورۃ الرعد سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَكَانَ يَكُونُ فِي بَنِي عِجْلٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الرَّعْدِ مَا هُوَ؟ قَالَ: " مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ، مَعَهُ مَخَارِيقُ مِنْ نَارٍ يَسُوقُ بِهَا السَّحَابَ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ، فَقَالُوا: فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي نَسْمَعُ؟ قَالَ: زَجْرُهُ بِالسَّحَابِ إِذَا زَجَرَهُ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى حَيْثُ أُمِرَ، قَالُوا: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنَا عَمَّا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ؟ قَالَ: اشْتَكَى عِرْقَ النَّسَا فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا لُحُومَ الْإِبِلِ وَأَلْبَانَهَا فَلِذَلِكَ حَرَّمَهَا، قَالُوا: صَدَقْتَ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا : اے ابوالقاسم ! ہمیں «رعد» کے بارے میں بتائیے وہ کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے ۔ بادلوں کو گردش دینے ( ہانکنے ) پر مقرر ہے ، اس کے پاس آگ کے کوڑے ہیں ۔ اس کے ذریعہ اللہ جہاں چاہتا ہے وہ وہاں بادلوں کو ہانک کر لے جاتا ہے “ ۔ پھر انہوں نے کہا : یہ آواز کیسی ہے جسے ہم سنتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ تو بادل کو اس کی ڈانٹ ہے ، جب تک کہ جہاں پہنچنے کا حکم دیا گیا ہے نہ پہنچے ڈانٹ پڑتی ہی رہتی ہے ۔ انہوں نے کہا : آپ نے درست فرمایا : ” اچھا اب ہمیں یہ بتائیے اسرائیل ( یعنی یعقوب علیہ السلام ) نے اپنے آپ پر کیا چیز حرام کر لی تھی ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اسرائیل کو عرق النسا کی تکلیف ہو گئی تھی تو انہوں نے اونٹوں کے گوشت اور ان کا دودھ ( بطور نذر ) ۱؎ کھانا پینا حرام کر لیا تھا “ ۔ انہوں نے کہا : آپ صحیح فرما رہے ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ـ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3117]
💡 وضاحت:
۱؎: مسند احمد کی روایت کے مطابق: انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر میں صحت یاب ہو گیا تو سب سے محبوب کھانے کو اپنے اوپر حرام کروں گا اس لیے انہوں نے اونٹوں کے گوشت اور دودھ کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1872)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 5445) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #3117
3116 3116 3117 3118 3119

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3118 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّوْرِيُّ، عَ...
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ونفضل بعض...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ