جامع الترمذي حدیث نمبر: 3116
Jami at-Tirmidhi 3116
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
13: باب وَمِنْ سُورَةِ يُوسُفَ
باب: سورۃ یوسف سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، نَحْوَ حَدِيثِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مَا بَعَثَ اللَّهُ بَعْدَهُ نَبِيًّا إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: الثَّرْوَةُ الْكَثْرَةُ وَالْمَنَعَةُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
فضل بن موسیٰ کی حدیث کی طرح ہی حدیث روایت ہے ، مگر ( ان کی حدیث میں ذرا سا فرق یہ ہے کہ ) انہوں نے کہا : «ما بعث الله بعده نبيا إلا في ثروة من قومه» ( اس حدیث میں «ذر وہ» کی جگہ «ثروه» ہے ، اور «ثروة» کے معنی ہیں : زیادہ تعداد ) ۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں : «ثروه» کے معنی کثرت اور شان و شوکت کے ہیں ۔ یہ فضل بن موسیٰ کی روایت سے زیادہ اصح ہے اور یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3116M]
قال الشيخ الألباني:
حسن - باللفظ الآتى:
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 15043، 15055) (حسن)