جامع الترمذي حدیث نمبر: 3041
Jami at-Tirmidhi 3041
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
5: باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ
باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: " آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ أَوْ آخِرُ شَيْءٍ نَزَلَ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو السَّفَرِ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ أَحْمَدَ الثَّوْرِيُّ، وَيُقَالُ ابْنُ يُحْمِدَ.
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آخری آیت جو نازل ہوئی یا آخری چیز جو نازل کی گئی ہے وہ یہ آیت ہے «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3041]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے ”اس آدمی کے بارے میں جس کی کوئی اولاد نہ ہو، نہ ہی ماں باپ، اللہ حکم دیتا ہے کہ ایسے آدمی کی اگر ایک بہن ہو تو اس کو جائیداد کا آدھا حصہ مل جائے گا، اگر دو بہن ہوں تو ان دونوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور اگر بھائی بہن مل کر ہوں تو ایک بھائی دو بہن کے برابر حصے ملے گا۔“ (النساء: ۱۷۶)
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2570)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 66 (4364)، وتفسیر النساء 27 (4605)، والفرائض 14 (6744)، صحیح مسلم/الفرائض 3 (1618)، سنن ابی داود/ الفرائض 3 (2888) (تحفة الأشراف: 1765) (صحیح)