جامع الترمذي حدیث نمبر: 3018
Jami at-Tirmidhi 3018
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
5: باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ
باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَبَائِرِ، قَالَ: " الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَلَا يَصِحُّ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کبیرہ گناہ : اللہ کے ساتھ شریک کرنا ، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ، ( ناحق ) کسی کو قتل کرنا ، جھوٹ کہنا یا جھوٹ بولنا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ، ¤ ۲- اس کو روح بن عبادہ نے بھی شعبہ یہ روایت کیا ہے ، لیکن ( عبیداللہ کی جگہ عبداللہ بن ابی بکر کہا ہے ، ( عبیداللہ ہی صحیح ہے ) لیکن یہ صحیح نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3018]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث مولف ارشاد باری: «إن تجتنبوا كبآئر ما تنهون عنه» (النساء: 31) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح غاية المرام (277)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1207 (صحیح)