جامع الترمذي حدیث نمبر: 2896
Jami at-Tirmidhi 2896
کتاب #46: کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
11: باب مَا جَاءَ فِي سُورَةِ الإِخْلاَصِ
باب: سورۃ الاخلاص «قل هو الله أحد» کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنٍ امْرَأَةِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ مَنْ قَرَأَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ فَقَدْ قَرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ "، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَقَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَلَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَحْسَنَ مِنْ رِوَايَةِ زَائِدَةَ، وَتَابَعَهُ عَلَى رِوَايَتِهِ إِسْرَائِيلُ، وَالْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنً الثِّقَاتِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَاضْطَرَبُوا فِيهِ.
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی اس بات سے بھی عاجز ہے کہ رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ ڈالے ؟ ( آپ نے فرمایا ) جس نے «الله الواحد الصمد» پڑھا ( یعنی سورۃ الاخلاص پڑھی ) اس نے تہائی قرآن پڑھی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے زائدہ کی روایت سے بہتر اسے روایت کیا ہو ، اور ان کی روایت پر ان کی متابعت اسرائیل ، فضیل بن عیاض نے کی ہے ۔ شعبہ اور ان کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے یہ حدیث منصور سے روایت کی ہے اور ان سبھوں نے اس میں اضطراب کا سے کام لیا ، ¤ ۳- اس باب میں ابوالدرداء ، ابو سعید خدری ، قتادہ بن نعمان ، ابوہریرہ ، انس ، ابن عمر اور ابومسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2896]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اسے ایک تہائی قرآن پڑھنے کا ثواب ملا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، التعليق الرغيب (2 / 225)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الافتتاح 69 (تحفة الأشراف: 3502)، و مسند احمد (5/419)، وسنن الدارمی/فضائل القرآن 23 (3480) (صحیح) (سند میں ”امرأة“ ایک مبہم راویہ ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)