جامع الترمذي حدیث نمبر: 2895
Jami at-Tirmidhi 2895
کتاب #46: کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ: " هَلْ تَزَوَّجْتَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ "؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: ثُلُثُ الْقُرْآنِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ " إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ "؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبُعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ " قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ "؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبُعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ " إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ "؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبُعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا : ” اے فلاں ! کیا تم نے شادی کر لی ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، قسم اللہ کی ! اللہ کے رسول ! نہیں کی ہے ، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کر سکوں ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس سورۃ قل هو الله أحد نہیں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، میرے پاس ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” سورۃ قل هو الله أحد ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے “ ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس سورۃ إذا جاء نصر الله والفتح نہیں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، ( ہے ) آپ نے فرمایا : ” یہ ایک چوتھائی قرآن ہے “ ، آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس سورۃ قل يا أيها الكافرون نہیں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ۔ ( ہے ) آپ نے فرمایا : ” ( یہ ) چوتھائی قرآن ہے “ ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس سورۃ إذا زلزلت الأرض نہیں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ( ہے ) آپ نے فرمایا : ” یہ ایک چوتھائی قرآن ہے “ ، آپ نے فرمایا : ” تم شادی کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2895]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، التعليق الرغيب (2 / 224)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2895) إسناده ضعيف ¤ سلمة بن وردان: ضعيف (تقدم:1993)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 870) (ضعیف) (سند میں سلم بن وردان ضعیف راوی ہیں، لیکن قل ھو اللہ سے متعلق فقرہ اوپر (2893) سے تقویت پا کر حسن ہے)