جامع الترمذي حدیث نمبر: 2874
Jami at-Tirmidhi 2874
کتاب #45: کتاب: مثل اور کہاوت کا تذکرہ
7: باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ ابْنِ آدَمَ وَأَجَلِهِ وَأَمَلِهِ
باب: آدمی کی موت اور آرزو کی مثال۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغَيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ أُمَّتِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلًتِ الذُّبَابُ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا، وَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ وَأَنْتُمْ تَقَحَّمُونَ فِيهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری اور میری امت کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے آگ جلائی تو مکھیاں اور پتنگے اس میں پڑنے لگے ( یہی حال تمہارا اور ہمارا ہے ) میں تمہاری کمر پکڑ پکڑ کر تمہیں بچا رہا ہوں اور تم ہو کہ اس میں ( جہنم کی آگ میں ) بلا سوچے سمجھے گھسے چلے جا رہے ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- دوسری سندوں سے بھی مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2874]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الضعيفة تحت الحديث (3082)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 40 (3426)، صحیح مسلم/الفضائل 6 (2284) (تحفة الأشراف: 13879)، و مسند احمد (2/361، 392) (صحیح)