جامع الترمذي حدیث نمبر: 2811
Jami at-Tirmidhi 2811
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق بِهَذَا، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا، قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا، قُلْتُ لَهُ: حَدِيثُ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ أَصَحُّ، أَوْ حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ؟ فَرَأَى كِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحًا، وَفِي الْبَابِ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ.
مجھ سے بیان کیا محمد بن بشار نے ، وہ کہتے ہیں مجھ سے بیان کیا محمد بن جعفر نے ، وہ کہتے ہیں مجھ سے بیان کیا شعبہ نے اور انہوں نے روایت کی اسی طرح ابواسحاق سے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث میں اس سے زیادہ کلام ہے ۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا ، میں نے کہا : ابواسحاق کی حدیث جو براء سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے یا جابر بن سمرہ کی ؟ تو انہوں نے دونوں ہی حدیثوں کو صحیح قرار دیا ، ¤ ۲- اس باب میں براء اور ابوجحیفہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2811M]
قال الشيخ الألباني:
(حديث البراء) صحيح، (حديث جابر بن سمرة) ضعيف (حديث البراء) وتقدم بأتم منه (1724) // هذا رقم الدعاس، وهو عندنا برقم (1408 - 1794) //، (حديث جابر بن سمرة) مختصر الشمائل (8) // ووقع فيه: صحيح، وهو خطأ //
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)