جامع الترمذي حدیث نمبر: 2737
Jami at-Tirmidhi 2737
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
1: باب مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ
باب: چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دینا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ: يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ ثِقَةٌ، رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کے مومن پر چھ حقوق ہیں ، ( ۱ ) جب بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کرے ، ( ۲ ) جب مرے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ، ( ۳ ) جب دعوت کرے تو قبول کرے ، ( ۴ ) جب ملے تو اس سے سلام کرے ، ( ۵ ) جب اسے چھینک آئے تو اس کی چھینک کا جواب دے ، ( ۶ ) اس کے سامنے موجود رہے یا نہ رہے اس کا خیرخواہ ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- محمد بن موسیٰ مخزومی مدنی ثقہ ہیں ان سے عبدالعزیز ابن محمد اور ابن ابی فدیک نے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2737]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (832)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/السلام 3 (2163) (تحفة الأشراف: 13066)، و مسند احمد (2/321، 372، 412، 540) (صحیح) (و ورد عند صحیح البخاری/ (الجنائز 2/ح 1240)، وم (السلام 3/ح 2162) بلفظ ”خمس“)