جامع الترمذي حدیث نمبر: 2776
Jami at-Tirmidhi 2776
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
28: باب مَا جَاءَ فِي نَظْرَةِ الْمُفَاجَأَةِ
باب: (غیر محرم پر) اچانک نظر پڑ جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفُجَاءَةِ " فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرٍو اسْمُهُ هَرِمٌ.
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کسی اجنبیہ عورت پر ) اچانک پڑ جانے والی نظر سے متعلق پوچھا ۔ تو آپ نے فرمایا : ” تم اپنی نگاہ پھیر لیا کرو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2776]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ کسی مقصد و ارادہ کے بغیر اگر اچانک کسی اجنبی عورت پر نگاہ پڑ جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حرج اور گناہ تو اس میں ہے کہ اس پر باربار نگاہ مقصد و ارادہ کے ساتھ ڈالی جائے، اور یہ کہ اچانک نگاہ کو بھی فوراً پھیر لیا جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح حجاب المرأة (35)، صحيح أبي داود (1864)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأدب 10 (2159)، سنن ابی داود/ النکاح 44 (2148) (تحفة الأشراف: 3237)، و مسند احمد (4/358، 361)، وسنن الدارمی/الاستئذان 15 (2685) (صحیح)