جامع الترمذي حدیث نمبر: 2774
Jami at-Tirmidhi 2774
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
26: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي اتِّخَاذِ الأَنْمَاطِ
باب: غالیچہ (چھوٹے قالین) رکھنے کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكُمْ أَنْمَاطٌ؟ قُلْتُ: وَأَنَّى تَكُونُ لَنَا أَنْمَاطٌ؟ قَالَ: أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ "، قَالَ: فَأَنَا أَقُولُ لِامْرَأَتِي أَخِّرِي عَنِّي أَنْمَاطَكِ، فَتَقُولُ: أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ، قَالَ: فَأَدَعُهَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس «انماط» ( غالیچے ) ہیں ؟ “ میں نے کہا : غالیچے ہمارے پاس کہاں سے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” تمہارے پاس عنقریب «انماط» ( غالیچے ) ہوں گے “ ۔ ( تو اب وہ زمانہ آ گیا ہے ) میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ تم اپنے «انماط» ( غالیچے ) مجھ سے دور رکھو ۔ تو وہ کہتی ہے : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ کہا تھا کہ تمہارے پاس «انماط» ہوں گے ، تو میں اس سے درگزر کر جاتا ہوں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2774]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ نے جو پیشین گوئی کی تھی کہ مسلمان مالدار ہو جائیں گے، اور عیش و عشرت کی ساری چیزیں انہیں میسر ہوں گی بحمد اللہ آج مسلمان آپ کی اس پیشین گوئی سے پوری طرح مستفید ہو رہے ہیں، اس حدیث سے غالیچے رکھنے کی اجازت کا پتا چلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 25 (3631)، واللباس 62 (5161)، صحیح مسلم/اللباس 7 (2083)، سنن ابی داود/ اللباس 45 (4145)، سنن النسائی/النکاح 83 (3388) (تحفة الأشراف: 3023) (صحیح)