جامع الترمذي حدیث نمبر: 2777
Jami at-Tirmidhi 2777
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
28: باب مَا جَاءَ فِي نَظْرَةِ الْمُفَاجَأَةِ
باب: (غیر محرم پر) اچانک نظر پڑ جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، رَفَعَهُ قَالَ: " يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ.
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علی ! نظر کے بعد نظر نہ اٹھاؤ ، کیونکہ تمہارے لیے پہلی نظر ( معاف ) ہے اور دوسری ( معاف ) نہیں ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2777]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر اچانک پہلی مرتبہ تمہاری نگاہ کسی پر پڑ گئی تو یہ معاف ہے، لیکن تمہارا دوبارہ دیکھنا قابل گرفت ہو گا (اور پہلی والی بھی فوراً ہٹا لینی ہو گی)۔
قال الشيخ الألباني:
حسن الحجاب (34)، صحيح أبي داود (1865)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2777) إسناده ضعيف / د 2149
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ النکاح 44 (2149) (تحفة الأشراف: 2007) (حسن)