جامع الترمذي حدیث نمبر: 2769
Jami at-Tirmidhi 2769
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: " احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ، قَالَ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَافْعَلْ، قُلْتُ: وَالرَّجُلُ يَكُونُ خَالِيًا؟ قَالَ: فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَجَدُّ بَهْزٍ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ، وَقَدْ رَوَى الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ وَالِدُ بَهْزٍ.
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے اور کس قدر چھپانا ضروری ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر کسی سے اپنی شرمگاہ کو چھپاؤ “ ، انہوں نے کہا : آدمی کبھی آدمی کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونی چاہیئے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے “ ، میں نے کہا : آدمی کبھی تنہا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- بہز کے دادا کا نام معاویہ بن حیدۃ القشیری ہے ۔ ¤ ۳- اور جریری نے حکیم بن معاویہ سے روایت کی ہے اور وہ بہز کے والد ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2769]
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (1920)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطھارة 99 (تعلیقا في الباب) سنن ابی داود/ الحمام 3 (4017)، سنن ابن ماجہ/النکاح 28 (1920)، ویأتي برقم 2794) (تحفة الأشراف: 11380) (حسن)