جامع الترمذي حدیث نمبر: 2767
Jami at-Tirmidhi 2767
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
20: باب مَا جَاءَ فِي الْكَرَاهِيَةِ فِي ذَلِكَ
باب: ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھ کر چٹ لیٹنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں صماء ۱؎ اور احتباء ۲؎ کرنے اور ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹنے سے منع فرمایا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2767]
💡 وضاحت:
۱؎: «اشتمال صمّاء» : یہ ہے کہ کپڑا اس طرح جسم پر لپیٹے کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں، اور حرکت کرنا مشکل ہو۔
۲؎: «احتباء» : یہ ہے کہ آدمی دونوں سرینوں (چوتڑوں) کے اوپر بیٹھے اور دونوں پنڈلیوں کو کھڑی کر کے پیٹ سے لگا لے اور اوپر سے ایک کپڑا ڈال لے، اس صورت میں شرمگاہ کھلنے کا خطرہ لگا رہتا ہے۔ اور اگر اچانک اٹھنا پڑ جائے تو آدمی جلدی سے اٹھ بھی نہیں سکتا۔
۲؎: «احتباء» : یہ ہے کہ آدمی دونوں سرینوں (چوتڑوں) کے اوپر بیٹھے اور دونوں پنڈلیوں کو کھڑی کر کے پیٹ سے لگا لے اور اوپر سے ایک کپڑا ڈال لے، اس صورت میں شرمگاہ کھلنے کا خطرہ لگا رہتا ہے۔ اور اگر اچانک اٹھنا پڑ جائے تو آدمی جلدی سے اٹھ بھی نہیں سکتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1255)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الزینة 107 (5344) (تحفة الأشراف: 2905)، و مسند احمد (3/293، 322، 331، 344، 349) وانظر ماقبلہ (صحیح)