جامع الترمذي حدیث نمبر: 2757
Jami at-Tirmidhi 2757
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
14: باب مَا جَاءَ فِي تَقْلِيمِ الأَظْفَارِ
باب: ناخن کاٹنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ، قَالَ زَكَرِيَّا، قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ "، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: انْتِقَاصُ الْمَاءِ: الِاسْتِنْجَاءُ بِالْمَاءِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دس ۱؎ چیزیں فطرت سے ہیں ( ۱ ) مونچھیں کترنا ( ۲ ) ڈاڑھی بڑھانا ( ۳ ) مسواک کرنا ( ۴ ) ناک میں پانی ڈالنا ( ۵ ) ناخن کاٹنا ( ۶ ) انگلیوں کے جوڑوں کی پشت دھونا ( ۶ ) بغل کے بال اکھیڑنا ( ۸ ) ناف سے نیچے کے بال مونڈنا ( ۹ ) پانی سے استنجاء کرنا ، زکریا ( راوی ) کہتے ہیں کہ مصعب نے کہا : دسویں چیز میں بھول گیا ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کلی کرنا ہو “ ، «انتقاص الماء» سے مراد پانی سے استنجاء کرنا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمار بن یاسر ، ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2757]
💡 وضاحت:
۱؎: پچھلی حدیث میں پانچ کا ذکر ہے، اور اس میں دس کا، دونوں میں کوئی تضاد نہیں، پانچ دس میں داخل ہیں، یا پہلے آپ کو پانچ کے بارے میں بتایا گیا، بعد میں دس کے بارے میں بتایا گیا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (293)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 16 (261)، سنن ابی داود/ الطہارة 29 (53)، سنن النسائی/الزینة 1 (5043)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 8 (293) (تحفة الأشراف: 88ا16)، و مسند احمد (6/137) (صحیح)