جامع الترمذي حدیث نمبر: 2759
Jami at-Tirmidhi 2759
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
15: باب فِي التَّوْقِيتِ فِي تَقْلِيمِ الأَظْفَارِ وَأَخْذِ الشَّارِبِ
باب: ناخن کاٹنے اور مونچھیں تراشنے کے وقت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ، وَنَتْفِ الْإِبْطِ، أَنْ نَتْرَكُ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا "، قَالَ: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْأَوَّلِ، وَصَدَقَةُ بْنُ مُوسَى لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْحَافِظِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مونچھیں کترنے ، ناخن کاٹنے ، زیر ناف کے بال لینے ، اور بغل کے بال اکھاڑنے کا ہمارے لیے وقت مقرر فرما دیا گیا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۲- صدقہ بن موسیٰ ( جو پہلی حدیث کی سند میں ) محدثین کے نزدیک حافظ نہیں ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2759]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ چالیس دن سے اوپر نہ ہو، یہ مطلب نہیں ہے کہ چالیس دن کے اندر جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (2758)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)