جامع الترمذي حدیث نمبر: 2755
Jami at-Tirmidhi 2755
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
13: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ قِيَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ
باب: آدمی کا آدمی کے (اعزاز و تکریم کے) لیے کھڑا ہونا (یعنی قیام تعظیمی) مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ صَفْوَانَ حِينَ رَأَوْهُ، فَقَالَ: اجْلِسَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ابومجلز کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ باہر نکلے ، عبداللہ بن زبیر اور ابن صفوان انہیں دیکھ کر ( احتراماً ) کھڑے ہو گئے ۔ تو معاویہ رضی الله عنہ نے کہا تم دونوں بیٹھ جاؤ ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص یہ پسند کرے کہ لوگ اس کے سامنے با ادب کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوامامہ سے بھی روایت ہے ۔ ہم سے بیان کیا ہناد نے وہ کہتے ہیں : ہم سے بیان کیا ابواسامہ نے اور ابواسامہ نے حبیب بن شہید سے حبیب بن شہید نے ابومجلز سے ابومجلز نے معاویہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2755]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ ادب و تعظیم کی خاطر کسی کے لیے کھڑا ہونا مکروہ ہے، البتہ کسی معذور شخص کی مدد کے لیے اٹھ کھڑا ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے، نیز اگر کسی آنے والے کے لیے بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کوئی آگے بڑھ کر اس کو لے کر مجلس میں آئے اور بیٹھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ فاطمہ رضی الله عنہا رسول اللہ کے لیے کرتی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (4699)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 165 (5229) (تحفة الأشراف: 11448)، و مسند احمد (4/100) (صحیح)