جامع الترمذي حدیث نمبر: 2754
Jami at-Tirmidhi 2754
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
13: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ قِيَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ
باب: آدمی کا آدمی کے (اعزاز و تکریم کے) لیے کھڑا ہونا (یعنی قیام تعظیمی) مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " لَمْ يَكُنْ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص انہیں یعنی ( صحابہ ) کو رسول اللہ سے زیادہ محبوب نہ تھا کہتے ہیں : ( لیکن ) وہ لوگ آپ کو دیکھ کر ( ادباً ) کھڑے نہ ہوتے تھے ۔ اس لیے کہ وہ لوگ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند کرتے ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2754]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (289)، الضعيفة تحت الحديث (346)، المشكاة (4698)، نقد الكتاني ص (51)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 625) (صحیح)