جامع الترمذي حدیث نمبر: 2728
Jami at-Tirmidhi 2728
کتاب #43: کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
31: باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ
باب: مصافحہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ مِنَّا يَلْقَى أَخَاهُ أَوْ صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهِ وَيُصَافِحُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ہمارا آدمی اپنے بھائی سے یا اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا وہ اس کے سامنے جھکے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ، اس نے پوچھا : کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ، اس نے کہا : پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے ، آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ( بس اتنا ہی کافی ہے ) ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2728]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں (۱) ملاقات کے وقت کسی کے سامنے جھکنا منع ہے، اس لیے جھک کر کسی کا پاؤں چھونا ناجائز ہے، (۲) اس حدیث میں معانقہ اور بوسے سے جو منع کیا گیا ہے، یہ ہر مرتبہ ملاقات کے وقت کرنے سے ہے، البتہ نئی سفر سے آ کر ملے تو معانقہ و بوسہ درست ہے، (۳) «أفيأخذ بيده ويصافحه» سے یہ واضح ہے کہ مصافحہ ایک ہاتھ سے ہو گا، کیونکہ حدیث میں دونوں ہاتھ کے پکڑنے کے متعلق نہیں پوچھا گیا، بلکہ یہ پوچھا گیا ہے کہ ”اس کے ہاتھ کو پکڑے اور مصافحہ کرے“ معلوم ہوا کہ مصافحہ کا مسنون طریقہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا ہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (3702)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2728) إسناده ضعيف / جه 3702 ¤ حنظلة السدوسي: ضعيف (تق: 1583) ولبعض الحديث شواهد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأدب 15 (3702) (تحفة الأشراف: 822) (حسن)