جامع الترمذي حدیث نمبر: 2726
Jami at-Tirmidhi 2726
کتاب #43: کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
30: باب مَا جَاءَ فِي الْجَالِسِ عَلَى الطَّرِيقِ
باب: راستے میں بیٹھنے والے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ: " إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَرُدُّوا السَّلَامَ، وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ، وَاهْدُوا السَّبِيلَ " , وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ( سند میں اس بات کی صراحت ہے کہ ابواسحاق نے براء سے سنا نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے ، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے ، بالخصوص شعبہ کی روایت ہونے کی وجہ سے قوی ہے ) انصار کے کچھ لوگ راستے میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا : ” ( یوں تو راستے میں بیٹھنا اچھا نہیں ہے ) لیکن اگر تم بیٹھنا ضروری سمجھتے ہو تو سلام کا جواب دیا کرو ، مظلوم کی مدد کیا کرو ، اور ( بھولے بھٹکے ہوئے کو ) راستہ بتا دیا کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابوشریح خزاعی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2726]
قال الشيخ الألباني:
صحيح المتن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1884)، وانظر مسند احمد (4/281، 283، 291، 293، 301)، وسنن الدارمی/الاستئذان 26 (2697) (صحیح)