جامع الترمذي حدیث نمبر: 2727
Jami at-Tirmidhi 2727
کتاب #43: کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
31: باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ
باب: مصافحہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْبَرَاءِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَالْأَجْلَحُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيُّ.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے ملتے اور ( سلام ) و مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے ایک دوسرے سے علیحدہ اور جدا ہونے سے پہلے انہیں بخش دیا جاتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث براء سے متعدد سندوں سے بھی مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2727]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے ملاقات کرنا اور مصافحہ کرنا اگر ایک طرف دونوں میں محبت کا باعث ہے تو دوسری جانب گناہوں کی مغفرت کا سبب بھی ہے، اس مغفرت کا تعلق صرف صغیرہ گناہوں سے ہے نہ کہ کبیرہ گناہوں سے، کبیرہ گناہ تو توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3703)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2727) إسناده ضعيف / د 5212، جه 3703
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 153 (5213)، سنن ابن ماجہ/الأدب 16 (3703) (تحفة الأشراف: 1799)، و مسند احمد (4/289، 303) (صحیح)