📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام (كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: خط لکھ کر اس پر مٹی ڈالنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
20: باب مَا جَاءَ فِي تَتْرِيبِ الْكِتَابِ
باب: خط لکھ کر اس پر مٹی ڈالنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَتَبَ أَحَدُكُمْ كِتَابًا فَلْيُتَرِّبْهُ، فَإِنَّهُ أَنْجَحُ لِلْحَاجَةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُهُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , قَالَ: وَحَمْزَةُ هُوَ عِنْدِي ابْنُ عَمْرٍو النَّصِيبِيُّ، هُوَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈالنا چاہیئے ، کیونکہ اس سے حاجت برآری کی زیادہ توقع ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث منکر ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے ابوزبیر کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- حمزہ ہمارے نزدیک عمرو نصیبی کے بیٹے ہیں ، اور وہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2713]
💡 وضاحت:
۱؎: تحریر پھیلی اور بگڑی ہوئی نہیں بلکہ صاف و ستھری رہے گی تو جس مقصد کے لیے لکھی گئی ہو گی، اس مقصد کے جلد حاصل ہونے کی امید کی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (5657)، الضعيفة (1738) // ضعيف الجامع الصغير (674) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2713) ضعيف جدًا ¤ حمزة بن أبى حمزة النصيبي: متروك متهم بالوضع (تق: 1519) وللحديث طريق آخر عند ابن ماجه (3774) فيه مجهول
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الأدب 49 (3774) (تحفة الأشراف: 2699) (سند میں حمزة بن عمرو متروک الحدیث ہے اور ابو زبیر مکی مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ابن ماجہ کی سند میں بقیہ ہیں اور روایت ابو احمد دمشقی سے ہے جو مجہول ہیں) (ضعیف) (الضعیفة 1738)
جامع الترمذي • حدیث #2713
2711 2712 2713 2714 2715
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ