جامع الترمذي حدیث نمبر: 2711
Jami at-Tirmidhi 2711
کتاب #43: کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
18: باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ قَبْلَ الاِسْتِئْذَانِ
باب: گھر میں داخلہ کی اجازت لینے سے پہلے سلام کرنا (کیسا ہے؟)۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ: أَنَا أَنَا كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک قرض کے سلسلے میں جو میرے والد کے ذمہ تھا کچھ بات کرنے کے لیے آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو آپ نے کہا : ” کون ہے ؟ “ ۔ میں نے کہا : میں ہوں ، آپ نے فرمایا : ” میں میں ( کیا ہے ؟ ) “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2711]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ اجازت طلب کرتے وقت اگر گھر والے یہ جاننا چاہیں کہ آنے والا کون ہے تو ”میں“ کہنے کے بجائے اپنا نام اور اگر کنیت سے مشہور ہے تو کنیت بتلائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الاستئذان 17 (6250)، صحیح مسلم/الآداب 8 (2155)، سنن ابی داود/ الأدب 139 (5187)، سنن ابن ماجہ/الأدب 17 (3709) (تحفة الأشراف: 3042)، و مسند احمد (3/298)، وسنن الدارمی/الاستئذان 2 (2672) (صحیح)