جامع الترمذي حدیث نمبر: 2714
Jami at-Tirmidhi 2714
کتاب #43: کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
21: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ أُمِّ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَاتِبٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " ضَعِ الْقَلَمَ عَلَى أُذُنِكَ فَإِنَّهُ أَذْكَرُ لِلْمُمْلِي " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهُوَ إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ، وَعَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَمُحَمَّدُ بْنُ زَاذَانَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ.
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ۔ آپ کے سامنے ایک کاتب بیٹھا ہوا تھا ۔ میں نے سنا آپ اس سے فرما رہے تھے : ” تم اپنا قلم اپنے کان پر رکھے رہا کرو کیونکہ اس سے لکھوانے والوں کو آگاہی و یاد دہانی ہو جایا کرے گی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ سند ضعیف ہے ، ¤ ۳- عنبسہ بن عبدالرحمٰن اور محم بن زاذان ، دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2714]
قال الشيخ الألباني:
موضوع، الضعيفة (865) // ضعيف الجامع الصغير (3588) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2714) إسناده ضعيف جدًا ¤ عنبسه و شيخه محمد بن زاذان: متروكان (تقدما:2699)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (التحفہ: 4743) (موضوع) (سند میں عنبسہ اور محمد بن زاذان دونوں متروک الحدیث ہیں)