جامع الترمذي حدیث نمبر: 2699
Jami at-Tirmidhi 2699
کتاب #43: کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
11: باب مَا جَاءَ فِي السَّلاَمِ قَبْلَ الْكَلاَمِ
باب: بات چیت سے پہلے سلام کرنے کا بیان۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَدْعُوا أَحَدًا إِلَى الطَّعَامِ حَتَّى يُسَلِّمَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ذَاهِبٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زَاذَانَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
اور سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : ” کسی کو کھانے پر نہ بلاؤ جب تک کہ وہ سلام نہ کر لے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث منکر ہے ہم اس حدیث کو اس سند کے سوا کسی اور سند سے نہیں جانتے ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عنبسہ بن عبدالرحمٰن حدیث بیان کرنے میں ضعیف اور بہکنے والے ، اور محمد بن زاذان منکرالحدیث ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2699M]
قال الشيخ الألباني:
(حديث: " السلام قبل الكلام ") حسن، (حديث: " لا تدعوا أحد..... ") // موضوع // (حديث: " السلام قبل الكلام ")، الصحيحة (816)، (حديث: " لا تدعوا أحد ... ") // ضعيف الجامع الصغير (3374)، وقال فيه: موضوع //
تخریج دارالدعوہ:
تخريج: (موضوع) (ضعیف الجامع 3373، 3374، الضعیفة 1736)