📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام (كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: عورتوں کو سلام کرنا۔
عربی:
اردو:
9: باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى النِّسَاءِ
باب: عورتوں کو سلام کرنا۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، أَنَّهُ سَمِعَ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ تُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ فَأَلْوَى بِيَدِهِ بِالتَّسْلِيمِ، وَأَشَارَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بِيَدِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لَا بَأْسَ بِحَدِيثِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: شَهْرٌ حَسَنُ الْحَدِيثِ , وَقَوَّى أَمْرَهُ، وَقَالَ: إِنَّمَا تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ عَوْنٍ ثُمَّ رَوَى عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمَصَاحِفِيُّ بَلْخِيٌّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ النَّضْرُ: نَزَكُوهُ أَيْ طَعَنُوا فِيهِ، وَإِنَّمَا طَعَنُوا فِيهِ لِأَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَ السُّلْطَانِ.
اسماء بنت یزید رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں گزرے وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی ، چنانچہ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- عبدالحمید ( راوی ) نے بھی پتے ہاتھ سے اشارہ کیا ( کہ اس طرح ) ، ¤ ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں : شہر بن حوشب کے واسطہ سے عبدالحمید بن بہرام کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے ، ¤ ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : شہر حسن الحدیث ہیں اور ان کو روایت حدیث میں قوی بخاری کہتے ہیں : ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے ۔ ابن عون کہتے ہیں : «إن شهرا نزكوه» کے واسطہ سے کہا : شہر کی شخصیت کو محدثین نے داغ دار بتایا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ نضر کہتے ہیں «نزكوه» کا مطلب یہ ہے کہ «طعنوا فيه» یعنی ان کی شخصیت کو داغ دار بتایا ہے ، اور لوگوں نے ان پر جرح اس لیے کی ہے کہ وہ سلطان ( حکومت ) کے ملازم بن گئے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2697]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ جہاں فتنے کا خوف نہ ہو وہاں مرد اور عورتوں کا ایک دوسرے کو سلام کرنا جائز ہے، مثلاً عورتوں کی جماعت ہو یا کوئی بوڑھی عورت ہو، کیونکہ ان دونوں صورتوں میں فتنے کا اندیشہ نہیں ہے، البتہ مرد کا کسی جوان عورت کو سلام کرنا جب کہ وہ تنہا ہو اسی طرح تنہا جوان عورت کا کسی مرد کو سلام کرنا صحیح نہیں، کیونکہ یہ دونوں صورتیں فتنے سے خالی نہیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف حجاب المرأة المسلمة (99 - 100)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الأدب 148 (5204) (تحفة الأشراف: 15766) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #2697
2696 2696 2697 2698 2699
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ