جامع الترمذي حدیث نمبر: 2541
Jami at-Tirmidhi 2541
کتاب #39: کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ
9: باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ ثِمَارِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
باب: جنت کے پھلوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَذُكِرَ لَهُ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، قَالَ: يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّ الْفَنَنِ مِنْهَا مِائَةَ سَنَةٍ أَوْ يَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا مِائَةُ رَاكِبٍ شَكَّ يَحْيَى فِيهَا فِرَاشُ الذَّهَبِ كَأَنَّ ثَمَرَهَا الْقِلَالُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
اسماء بنت ابوبکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، اس وقت آپ کے سامنے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر آیا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ” اس کی شاخوں کے سائے میں سوار سو سال تک چلے گا ، یا اس کے سائے میں سو سوار رہیں گے ، ( یہ شک حدیث کے راوی یحییٰ کی طرف سے ہے ۔ ) اس پر سونے کے بسترے ہیں اور اس کے پھل مٹکے جیسے ( بڑے ) ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2541]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (5640 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيب (4 / 256)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15716) (ضعیف) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور یونس بن بکیر روایت میں غلطیاں کر جایا کرتے تھے)