جامع الترمذي حدیث نمبر: 2515
Jami at-Tirmidhi 2515
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
59: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ " , قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص مومن کامل نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2515]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے کا خیرخواہ ہونا چاہیئے، اگر مسلمان اپنے معاشرہ کو خود غرضی رشوت، بددیانتی، جعل سازی، لوٹ کھسوٹ وغیرہ سے پاک صاف رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اس حدیث کو اپنے لیے نمونہ بنا کر اس پر عمل کرنا ہو گا، إن شاء اللہ جو بھی اخلاقی بیماریاں عام ہیں وہ ختم ہو جائیں گی، ورنہ ذلت اور بداخلاقی سے ہمیشہ دو چار رہیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (66)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 7 (13)، صحیح مسلم/الإیمان 17 (45)، سنن النسائی/الإیمان 19 (5019)، 33 (5042)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (66) (تحفة الأشراف: 1239) (صحیح)