جامع الترمذي حدیث نمبر: 2517
Jami at-Tirmidhi 2517
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
60: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ السَّدُوسِيُّ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَعْقِلُهَا وَأَتَوَكَّلُ أَوْ أُطْلِقُهَا وَأَتَوَكَّلُ قَالَ: " اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ " , قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ: قَالَ يَحْيَى: وَهَذَا عِنْدِي حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں اونٹ کو پہلے باندھ دوں پھر اللہ پر توکل کروں یا چھوڑ دوں پھر توکل کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” اسے باندھ دو ، پھر توکل کرو “ ۔ عمرو بن علی الفلاس کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید القطان نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہ حدیث منکر ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث انس کی روایت سے غریب ہے ، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ ¤ ۲- اسی طرح سے یہ حدیث عمرو بن امیہ ضمری کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2517]
قال الشيخ الألباني:
حسن تخريج المشكلة (22)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1602) (حسن)