جامع الترمذي حدیث نمبر: 2478
Jami at-Tirmidhi 2478
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
37: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْبَكَّاءُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَجَشَّأَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " كُفَّ عَنَّا جُشَاءَكَ فَإِنَّ أَكْثَرَهُمْ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وفي الباب عن أَبِي جُحَيْفَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے ڈکار لیا ، تو آپ نے فرمایا : ” تم اپنی ڈکار ہم سے دور رکھو اس لیے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا رہے گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوجحیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2478]
💡 وضاحت:
۱؎: ڈکار عموماً زیادہ کھانے سے آتی ہے، اس لیے آپ نے اس آدمی سے یہ فرمایا اور اگر ڈکار گیس کی بیماری کی وجہ سے آئے تو اس ڈکار پر یہ حدیث صادق نہیں آئے گی، کیونکہ یہ تو مجبوری کی حالت میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (3350 - 3351)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2478) إسناده ضعيف / جه 3350 ¤ يحيي بن مسلم البكاء ضعيف (تقدم: 195،196) وللحديث شواهد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة 50 (3350، 3351) (تحفة الأشراف: 8563) (حسن)