📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي - حدیث نمبر 2476

Sunan / Jami at-Tirmidhi Hadith 2476 (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
کتاب #38 📁 کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع (كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) ← 🏷️ باب: ۔۔۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 2476 Jami at-Tirmidhi 2476
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
35: باب مِنْهُ
🏷️ باب: ۔۔۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، حَدَّثَنِي مَنْ , سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , يَقُولُ: إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ مَا عَلَيْهِ إِلَّا بُرْدَةٌ لَهُ مَرْقُوعَةٌ بِفَرْوٍ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَى لِلَّذِي كَانَ فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ، وَالَّذِي هُوَ الْيَوْمَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ بِكُمْ إِذَا غَدَا أَحَدُكُمْ فِي حُلَّةٍ وَرَاحَ فِي حُلَّةٍ وَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ صَحْفَةٌ وَرُفِعَتْ أُخْرَى وَسَتَرْتُمْ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مِنَّا الْيَوْمَ نَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَةِ وَنُكْفَى الْمُؤْنَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ مِنْكُمْ يَوْمَئِذٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَيَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ هُوَ ابْنُ مَيْسَرَةَ وَهُوَ مَدَنِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَيَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ الَّذِي رَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ، رَوَى عَنْهُ وَكِيعٌ، وَمَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ كُوفِيٌّ رَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب بن عمیر ۱؎ آئے ان کے بدن پر چمڑے کی پیوند لگی ہوئی ایک چادر تھی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کی اس ناز و نعمت کو دیکھ کر رونے لگے جس میں وہ پہلے تھے اور جس حالت میں ان دنوں تھے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا حال ہو گا تمہارا اس وقت جب کہ تم میں سے ایک شخص ایک جوڑے میں صبح کرے گا تو دوسرے جوڑے میں شام کرے گا اور اس کے سامنے ایک برتن کھانے کا رکھا جائے گا تو دوسرا اٹھایا جائے گا ، اور تم اپنے مکانوں میں ایسے ہی پردہ ڈالو گے جیسا کہ کعبہ پر پردہ ڈالا جاتا ہے ؟ ۲؎ “ ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم اس وقت آج سے بہت اچھے ہوں گے اور عبادت کے لیے فارغ ہوں گے اور محنت و مشقت سے بچ جائیں گے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ تم آج کے دن ان دنوں سے بہتر ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یزید بن زیاد سے مراد یزید بن زیاد بن میسرہ مدنی ہیں ، ان سے مالک بن انس اور دیگر اہل علم نے روایت کی ہے اور ( دوسرے ) یزید بن زیاد دمشقی وہ ہیں جنہوں نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان سے ( یعنی دمشقی سے ) وکیع اور مروان بن معاویہ نے روایت کیا ہے ، اور ( تیسرے ) یزید بن ابی زیاد کوفی ہیں ۳؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2476]
💡 وضاحت:
۱؎: مصعب بن عمیر رضی الله عنہ جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں، یہ اپنا سارا مال و متاع مکہ میں چھوڑ کر ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، عقبہ ثانیہ کے بعد آپ نے ان کو قرآن کی تعلیم دینے اور دین کی باتیں سکھانے کے لیے مدینہ بھیجا، مدینہ میں ہجرت سے پہلے جمعہ کے لیے لوگوں کو سب سے پہلے جمع کرنے کا شرف انہی کو حاصل ہے، زمانہ جاہلیت میں سب سے زیادہ ناز و نعمت کی زندگی گزار نے والے تھے، لیکن اسلام لانے کے بعد ان سب سے انہیں بے رغبتی ہو گئی۔
۲؎: یعنی ایک وقت ایسا آئے گا کہ مال ومتاع کی ایسی کثرت ہو جائے گی کہ صبح و شام کپڑے بدلے جائیں گے، قسم قسم کے کھانے لوگوں کے سامنے ہوں گے، لوگ اپنے مکانوں کی تزئین کریں گے، گھروں میں عمدہ اور قیمتی کپڑوں کے پردے لٹکائیں گے، جیسا کہ آج کل ہے۔
۳؎: امام ترمذی ان تین لوگوں کے درمیان فرق بیان کر رہے ہیں جو یزید کے نام سے موسوم ہیں: (۱) یزید بن زیاد بن میسرہ مدنی ہیں، جو اس حدیث کی سند میں مذکور ہیں (۲) یزید بن زیاد مشقی ہیں، (۳) یزید بن ابی زیاد کوفی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (5366 / التحقيق الثاني)، وانظر الحديث (2591) // ضعيف الجامع الصغير (4293) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2476) إسناده ضعيف / انظر الحديث السابق: 2473
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف 0التحفة: 10339) (ضعیف) (محمد بن کعب قرظی سے استاذ راوی مبہم ہیں)
جامع الترمذي • حدیث #2476
2474 2475 2476 2477 2478

📖 اسی کتاب کی دیگر احادیث (Related Hadiths)

#2415 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِي...
´عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر اس کا ...
#2415 حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ يَوْمًا بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَلَمّ...
´ابوسائب کہتے ہیں کہ` ایک دن اس حدیث کو ہم سے وکیع نے اعمش کے واسطہ سے بیان کیا پھر جب وکیع یہ حدیث بیان کر کے فارغ ہوئے...
#2416 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ أَبُو مِحْصَنٍ ، حَدَّثَنَا ...
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس ک...
#2417 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَ...
´ابوبرزہ اسلمی کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن کسی بندے کے دونوں پاؤں نہیں ہٹیں گے ...
#2418 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ ال...
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا : ” کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ مفلس کسے...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ