جامع الترمذي حدیث نمبر: 2475
Jami at-Tirmidhi 2475
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
34: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ نَحْمِلُ زَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا، فَفَنِيَ زَادُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ يَكُونُ لِلرَّجُلِ مِنَّا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَأَيْنَ كَانَتْ تَقَعُ التَّمْرَةُ مِنَ الرَّجُلِ؟ فَقَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا، وَأَتَيْنَا الْبَحْرَ فَإِذَا نَحْنُ بِحُوتٍ قَدْ قَذَفَهُ الْبَحْرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا أَحْبَبْنَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین سو کی تعداد میں بھیجا ، ہم اپنا اپنا زاد سفر اٹھائے ہوئے تھے ، ہمارا زاد سفر ختم ہو گیا نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہر آدمی کے حصہ میں صرف ایک ایک کھجور آتی تھی ، ان سے کہا گیا : ابوعبداللہ ! ایک کھجور سے آدمی کا کیا ہوتا ہو گا ؟ جب وہ بھی ختم ہو گئی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی ، انہوں نے فرمایا : ہم سمندر کے کنارے پہنچے آخر ہمیں ایک مچھلی ملی ، جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا ، چنانچہ ہم اس میں سے اٹھارہ دن تک جس طرح چاہا سیر ہو کر کھاتے رہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث جابر کے واسطے سے دوسری سندوں سے بھی مروی ہے ، ¤ ۳- اس حدیث کو مالک بن انس نے وہب بن کیسان سے اس سے زیادہ مکمل اور مطول روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2475]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ صحابہ کرام دنیا سے کس قدر بے رغبت تھے، فقر و تنگدستی کی وجہ سے ان کی زندگی کس طرح پریشانی کے عالم میں گزرتی تھی، اس کے باوجود بھوک کی حالت میں بھی ان کا جذبہ جہاد بلند ہوتا تھا، کیونکہ وہ صبر و ضبط سے کام لیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (4159)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشرکة 1 (2483)، والجھاد 124 (2983)، والمغازي 65 (4360-4362)، والأطعمة 12 (5494)، صحیح مسلم/الصید 4 (1935)، سنن النسائی/الصید 35 (4356، 4359)، سنن ابن ماجہ/الزھد 12 (4159) (تحفة الأشراف: 3125)، موطا امام مالک/صفة النبی 10 (24)، وسنن الدارمی/الصید 6 (2055) (صحیح)