جامع الترمذي حدیث نمبر: 2438
Jami at-Tirmidhi 2438
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَهْطٍ بِإِيلِيَاءَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , سِوَاكَ؟ قَالَ: " سِوَايَ "، فَلَمَّا قَامَ , قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا ابْنُ أَبِي الْجَذْعَاءِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، أَبِي الْجَذْعَاءِ، هُوَ عَبْدُ اللَّهِ، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثُ الْوَاحِدُ.
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں ایلیاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا ، ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کے ایک فرد کی شفاعت سے قبیلہ بنی تمیم کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے “ ، کسی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا وہ شخص آپ کے علاوہ ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، میرے علاوہ ہو گا “ ، پھر جب وہ ( راوی حدیث ) کھڑے ہوئے تو میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا یہ ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ کا نام عبداللہ ہے ، ان سے صرف یہی ایک حدیث مشہور ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2438]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (4316)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الزہد 37 (4316) (تحفة الأشراف: 5212) (صحیح)