جامع الترمذي حدیث نمبر: 2438
Jami at-Tirmidhi 2438
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
12: باب مِنْهُ
باب: ستر ہزار مسلمان بلا حساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَهْطٍ بِإِيلِيَاءَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , سِوَاكَ؟ قَالَ: " سِوَايَ "، فَلَمَّا قَامَ , قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا ابْنُ أَبِي الْجَذْعَاءِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، أَبِي الْجَذْعَاءِ، هُوَ عَبْدُ اللَّهِ، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثُ الْوَاحِدُ.
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں ایلیاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا ، ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کے ایک فرد کی شفاعت سے قبیلہ بنی تمیم کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے “ ، کسی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا وہ شخص آپ کے علاوہ ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، میرے علاوہ ہو گا “ ، پھر جب وہ ( راوی حدیث ) کھڑے ہوئے تو میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا یہ ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ کا نام عبداللہ ہے ، ان سے صرف یہی ایک حدیث مشہور ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2438]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (4316)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الزہد 37 (4316) (تحفة الأشراف: 5212) (صحیح)