جامع الترمذي حدیث نمبر: 2301
Jami at-Tirmidhi 2301
کتاب #36: کتاب: شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل
3: باب مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الزُّورِ
باب: جھوٹی گواہی کی مذمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ، أَوْ قَوْلُ الزُّورِ "، قَالَ: فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں بڑے بڑے ( کبیرہ ) گناہوں کے بارے میں نہ بتا دوں ؟ “ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا “ ، ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری بات کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگوں نے دل میں کہا : کاش ! آپ خاموش ہو جاتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2301]
قال الشيخ الألباني:
صحيح غاية المرام (277)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1901) (صحیح)