جامع الترمذي حدیث نمبر: 2299
Jami at-Tirmidhi 2299
کتاب #36: کتاب: شہادت (گواہی) کے احکام و مسائل
3: باب مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الزُّورِ
باب: جھوٹی گواہی کی مذمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ، عَنْ فَاتِكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، " عَدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ "، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ سورة الحج آية 30، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ، وَاخْتَلَفُوا فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ، وَلَا نَعْرِفُ لِأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ سَمَاعًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ایمن بن خریم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” لوگو ! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور» ” تو بتوں کی گندگی سے بچے رہو ( ان کی پرستش نہ کرو ) اور جھوٹ بولنے سے بچے رہو “ ( الحج : ۳۰ ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف سفیان بن زیاد کی روایت سے جانتے ہیں ۔ اور لوگوں نے سفیان بن زیاد سے اس حدیث کی روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے ، ¤ ۳- نیز ہم ایمن بن خریم کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع بھی نہیں جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2299]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (2372) // ضعيف سنن ابن ماجة (518)، تخريج الإيمان لابن سلام (49 / 118)، طبع المكتب الإسلامي، المشكاة (3779 و 3780) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2299) إسناده ضعيف ¤ فاتك: مجهول الحال (تق: 5371) وانظر الأتي:3300
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1748) (ضعیف) (یہ مرسل ہے أیمن بن خریم تابعی ہیں، نیز اس کے راوی فاتک بن فضالہ مستور (مجہول الحال) ہیں)