جامع الترمذي حدیث نمبر: 2010
Jami at-Tirmidhi 2010
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
66: باب مَا جَاءَ فِي التَّأَنِّي وَالْعَجَلَةِ
باب: سوچ سمجھ کر کام کرنے کا ذکر اور جلد بازی نہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَاصِمٍ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن سرجس رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، لیکن اس میں ” عاصم “ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ، نصر بن علی کی روایت ہی صحیح ہے ( جو اوپر مذکور ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2010M]
قال الشيخ الألباني:
حسن، الروض النضير (384)، التعليق الرغيب (3 / 6)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (حسن)