جامع الترمذي حدیث نمبر: 2011
Jami at-Tirmidhi 2011
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
66: باب مَا جَاءَ فِي التَّأَنِّي وَالْعَجَلَةِ
باب: سوچ سمجھ کر کام کرنے کا ذکر اور جلد بازی نہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: " إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنِ الْأَشَجِّ الْعَصَرِيِّ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منذر بن عائذ اشج عبدالقیس سے فرمایا : ” تمہارے اندر دو خصلتیں ( خوبیاں ) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں : بردباری اور غور و فکر کی عادت ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں اشج عصری سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2011]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ انسان کو کوئی بھی کام سوچ سمجھ کرنا چاہیئے، جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیئے اور آدمی کو بردباری اور حلیم و صابر ہونا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (4188)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الزہد 18 (4188) (تحفة الأشراف: 6531) (صحیح)