جامع الترمذي حدیث نمبر: 1998
Jami at-Tirmidhi 1998
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
61: باب مَا جَاءَ فِي الْكِبْرِ
باب: تکبر اور گھمنڈ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ( گھمنڈ ) ہو گا ۱؎ اور جہنم میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو گا “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوہریرہ ، ابن عباس ، سلمہ بن الاکوع اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1998]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد جنت میں پہلے پہل جانے کا ہے، ورنہ ہر موحد سزا بھگتنے بعد «إن شاء اللہ» جنت میں جائے گا۔
۲؎: مراد کفار کی طرح جہنم میں داخل ہونے کا ہے، یعنی ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں نہیں داخل ہو گا، بلکہ اخیر میں سزا کاٹ کر جنت میں چلا جائے گا، «إن شاء اللہ» ۔
۲؎: مراد کفار کی طرح جہنم میں داخل ہونے کا ہے، یعنی ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں نہیں داخل ہو گا، بلکہ اخیر میں سزا کاٹ کر جنت میں چلا جائے گا، «إن شاء اللہ» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح تخريج إصلاح المساجد (115)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 39 (148)، سنن ابی داود/ اللباس 29 (4091)، سنن ابن ماجہ/المقدمة (59) (تحفة الأشراف: 9421)، و مسند احمد (1/387) (صحیح)