جامع الترمذي حدیث نمبر: 1996
Jami at-Tirmidhi 1996
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
59: باب مَا جَاءَ فِي الْمُدَارَاةِ
باب: حسن معاملہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ أَخُو الْعَشِيرَةِ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُ فَأَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَلَمَّا خَرَجَ، قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی ، اس وقت میں آپ کے پاس تھی ، آپ نے فرمایا : ” یہ قوم کا برا بیٹا ہے ، یا قوم کا بھائی برا ہے “ ، پھر آپ نے اس کو اندر آنے کی اجازت دے دی اور اس سے نرم گفتگو کی ، جب وہ نکل گیا تو میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے تو اس کو برا کہا تھا ، پھر آپ نے اس سے نرم گفتگو کی ۱؎ ، آپ نے فرمایا : ” عائشہ ! لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جس کی بد زبانی سے بچنے کے لیے لوگ اسے چھوڑ دیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1996]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کے برا ہوتے ہوئے بھی اس کے مہمان ہونے پر اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا، یہی باب سے مطابقت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1049)، مختصر الشمائل (301)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 38 (6032)، و48 (6054)، و 82 (6131)، صحیح مسلم/البر والصلة 22 (2591)، سنن ابی داود/ الأدب 6 (4791) (تحفة الأشراف: 16754) (صحیح)