جامع الترمذي حدیث نمبر: 2000
Jami at-Tirmidhi 2000
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
61: باب مَا جَاءَ فِي الْكِبْرِ
باب: تکبر اور گھمنڈ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَذْهَبُ بِنَفْسِهِ حَتَّى يُكْتَبَ فِي الْجَبَّارِينَ فَيُصِيبُهُ مَا أَصَابَهُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انسان ہمیشہ اپنے آپ کو تکبر ( گھمنڈ ) کی طرف لے جاتا ہے ، یہاں تک کہ ظالموں کی فہرست میں اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے ، اور اس لیے اسے وہی عذاب لاحق ہوتا ہے جو ظالموں کو لاحق ہوا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2000]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (1914) // ضعيف الجامع الصغير (6344) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2000) إسناده ضعيف ¤ عمر بن راشد اليمامي: ضعيف (تق: 4894) وقال العراقي: ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء 370/1) وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 46/10)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4528) (ضعیف) (سند میں عمر بن راشد ضعیف راوی ہیں)