جامع الترمذي حدیث نمبر: 1993
Jami at-Tirmidhi 1993
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
58: باب مَا جَاءَ فِي الْمِرَاءِ
باب: تکرار کرنے اور لڑائی جھگڑے کی مذمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكَرِّمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ بُنِيَ لَهُ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا، وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا "، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ( جھگڑے کے وقت ) جھوٹ بولنا چھوڑ دے حالانکہ وہ ناحق پر ہے ، اس کے لیے اطراف جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا ، جو شخص حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے اس کے لیے جنت کے بیچ میں ایک مکان بنایا جائے گا اور جو شخص اپنے اخلاق اچھے بنائے اس کے لیے اعلیٰ جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1993]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف بهذا اللفظ، ابن ماجة (51) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (6)، الصحيحة (273)، ضعيف الجامع برقم (5522) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1993) إسناده ضعيف / جه 51 ¤ سلمة بن وردان ضعيف (تق: 2514) وحديث أبى داود (4800) يغيني عنه
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 7 (51) (تحفة الأشراف: 868) (ضعیف) سند میں سلمہ بن وردان لیثی مدنی ضعیف راوی ہیں، صحیح الفاظ ابو امامہ رضی الله عنہ کی حدیث سے اس طرح ہیں: ”أنا زعیم ببیت في ربض الجنة لمن ترک المزاح و إن کان محقا، و بیت في وسط الجنة لمن ترک الکذب و إن کان مازحا، و بیت في اعلی الجنة لمن حسن خلقہ“ (أبو داود رقم 4800) تفصیل کے لیے دیکھیے الصحیحة 273)